عالمی مجلس بیداری فکراقبالؒ

بسم ا للہ الرحمن الرحیم عالمی مجلس بیداری فکراقبالؒ

(عالمی مجلس)

  بیداری فکراقبالؒ

(مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرادیکھ)

مجلس مشاورت:

میرافسرامان

ڈاکٹرساجدخاکوانی

رانااعجاز

کارروائی ادبی نشست،بدھ 8دسمبر2021ء

            بدھ 8دسمبر2021 بعد نمازمغرب (عالمی مجلس)”بیداری فکراقبالؒ“کی ہفت روزہ ادبی نشست لہروں کے دوش پرمنعقدہوئی۔

پیش نامے کے مطابق آج کی نشست میں ”دنیاکی امامت کا(نصف آخر)“کے عنوان پرلاہور سے ماہرطبعیات جناب پروفیسرثاقب رضانورالحق کاخطاب طے تھا۔

عالمی مجلس بیداری فکراقبالؒ

متحدہ عرب امارات دبئی سے پروفیسرسیدعلی یارنے صدارت فرمائی۔ملتان سے جناب یاسرخان نے تلاوت قرآن مجیدکی،راولپنڈی سے ڈاکٹرضمیراخترنے مطالعہ حدیث نبویﷺ پیش کی،مصرجامعۃ الازہرقاہرہ سے علامہ کاشف نورنے گزشتہ نشست کی کاروائی پڑھ کر سنائی۔

 صدرمجلس کی اجازت سے جناب پروفیسرثاقب رضانورالحق نے اپنے خطاب کاآغازکیا،انہوں نے زیر مطالعہ مصرعہ کے دوسرے حصے کو حسب سابق چارموضوعات میں تقسیم کیا؛”دنیاکی امامت“کس سے؟ کب؟ کیسے؟ اور کیونکر؟،ان کا بقیہ خطاب انہیں سوالات کے جوابات کااحاطہ کیے ہوئے تھا،تمہیداََ انہوں نے علامہ کے الفاظ میں خداوندان مکتب کو ہدف تنقیدبنایاکہ وہ شاہین بچوں کو غلامی زدہ تعلیم مہیاکررہے ہیں،انہوں نے نئی نسل کو قیادت سے عبارت خلافت ارضی کامنصب سنبھالنے کے لیے فکراقبال سے مزین اشعارپیش کیے،اس کے بعد پانچ ادوارکی طویل حدیث نبوی ﷺسنائی اورکہاکہ لمحہ موجودمیں ہم چوتھے اورپانچویں دورکے بیچ میں کھڑے ہیں۔

خطاب کے مندرجات پر ڈاکٹرساجدخاکوانی،میرافسرامان اورڈاکٹرضمیراخترنے سوالات اٹھائے اورفاضل مقررنے ان کا مختصرجواب دیا۔ملتان سے جناب پروفیسرعلی اصغرسلیمی نے تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ پیشین گوئیوں پراکتفاکرناکافی نہیں،منزل کے حصول کے لیے جدوجہدبھی شرط ہے۔مقبوضہ کشمیرسے محترمہ عاصمہ میرنے کہاکہ آج کے خطاب سے بہت کچھ حاصل ہوا۔

سیالکوٹ سے جناب عبدالشکورمرزانے حالات حاضرہ کے تناظرمیں کہاکہ ہماراملک اتنی بڑے مقامات کیسے حاصل کرپائے گا؟؟ملتان سے فارحہ جمشیدنے منصب امامت کے بارے میں سوال اٹھایاتوفاضل مقررنے تفصیلی جواب دیا۔

راولپنڈی سے جناب ڈاکٹرضمیراخترنے سورہ نور کی آیت55کے حوالے سے خلافت کے قیام کوامریقینی قراردیا۔نوشہرہ وادی سون سے جناب اسحق ظفرنے بھی قرآنی آیات سے مایوسیوں کو دورکیا۔

ڈاکٹرطاہرمحمود جو موٹروے پر عازم منزل تھے اپنے تحریری تبصروں میں حدیث نبوی بھیجی کہ اس امت کے آخری حصے کی اصلاح پہلے حصے کی طرح ہوگی۔سوات یونیورسٹی سے ڈاکٹربشری نے اپنے تحریری تبصرے میں خطاب پرپسندیدگی کااظہارکیا۔

فروغ قرآن اکادمی اسلام آبادسے محترمہ لبنی فروغ نے تحریری تبصرے میں کہاکہ فاضل مقررکی گفتگوبہت عمدہ اور معلومات افزاتھی۔معمول کے سلسلے میں جناب شہزادعالم صدیقی نے علامہ اقبال کے فارسی کلام سے اپناحاصل مطالعہ شرکاء نشست کے ساتھ تازہ کیا۔

            آخر میں صدارتی خطبہ دیتے ہوئے صدرمجلس جناب پروفیسرسیدعلی یارنے خطاب اورتبصروں کی تعریف کی اورکہاکہ اس مجلس میں ماہرین اقبالیات بھرپورتیاری کے ساتھ آتے ہیں،پھرخطاب بھی کرتے ہیں اور تبصرے اورسوالات بھی کرتے ہیں،انہوں نے کہاکہ ہم یہاں دبئی میں بدھ کا بہت بے چینی سے انتظارکرتے ہیں تاکہ اس محفل میں شامل ہوسکیں،انہوں نے دبئی میں لگی عالمی نمائش کے حوالے سے بتایاکہ یہاں پوری دنیاسے مسلمان نوجوان جمع ہیں اوران کی صلاحیتیں نکھرکرسامنے آرہی ہیں،صدرمجلس کے مطابق اقبال کاخطاب کل نوجوانان اسلام سے ہے خواہ وہ دنیاکے کسی خطے،نسل یا زبان سے تعلق ہو،خطاب کے آخرمیں انہوں نے کہاکہ وہ دن دورنہیں جب فاضل مقررکی پیشین گوئیاں ضرورپوری ہوں گی ان شااللہ تعالی۔صدارتی خطبے کے ساتھ ہی آج کی نشست اختتام پزیرہوگئی۔

عالمی مجلس بیداری فکراقبالؒ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔www.qalamkarwan.org)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *